ابنا: منگل کے روز سلامتي کونسل کي نشست ميں امريکا اور کچھ مغربي ملکوں نے ايک ايسي قرارداد کا مسودہ منظور کرانے کي کوشش کي جس کي ايک شق ميں کہا گيا ہے کہ شام کے صدر بشار اسد کو اقتدار سے عليحدہ ہوتے ہوئے اقتدار نائب صدر کے حوالے کر دينا چاہيے-
اقوام متحدہ ميں روس کے نمائندے ويتالي چورکين نے ايک انٹرويو ميں شام کے داخلي امور ميں سلامتي کونسل کي مداخلت پر تنقيد کي اور کہا کہ ديگر ممالک کے داخلي امور ميں سلامتي کونسل کے بعض رکن ملکوں کي مداخلت کي حدود معين ہوني چاہيے-
انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ سلامتي کونسل کي قراردادوں کو، ملکوں کے مفادات اور ارضي سالميت کو نقصان نہيں پہنچانا چاہيے، کہا کہ سلامتي کونسل کے اراکين کو اس بات کي جانب سے ہوشيار رہنا چاہيے کہ ان کے اقدامات کے نتيجے ميں شام کے حالات مزيد پيچيدہ نہ ہو جائيں اور مزيد بے گناہ افراد نہ مارے جائيں-
اقوام متحدہ ميں روس کے نمائندے نے سلامتي کونسل کے رکن مغربي ملکوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ شام کے سلسلے ميں کسي بھي قسم کا فيصلہ سوچ سمجھ کر اور پوري احتياط کے ساتھ کيا جانا چاہيے-
ويتالي چورکين نے شام کے سلسلے ميں امريکا، برطانيہ، فرانس اور جرمني کے وزرائے خارجہ کے مداخلت پسندانہ بيانات کي مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سلامتي کونسل کے اختيارات کي حدود معين ہوني چاہيے تاکہ اس کے رکن ممالک اپني مرضي سے جب بھي چاہيں کسي ملک کے سربراہ کو اس کے منصب سے نہ ہٹا سکيں- واضح رہے کہ سلامتي کونسل کا ہنگامي اجلاس منگل کے روز بغير کسي نتيجے کے ختم ہو گيا- اس اجلاس ميں مغربي ملکوں کے وزرائے خارجہ نے شرکت کي -.......
/169